س: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی وراثت تقسیم کرنی ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
والد (مالکِ جائیداد): وفات 1990۔
والدہ: وفات 2001۔
بیٹا 1: وفات 2015 (پسماندگان میں بیوہ اور 3 بیٹے ہیں)۔
بیٹا 2: وفات 2017 (پسماندگان میں بیوہ، 1 بیٹا اور 4 بیٹیاں ہیں)۔
بیٹا 3: بحمد اللہ زندہ ہے۔
بیٹا 4 (لاپتہ): یہ بیٹا گزشتہ 15 سال سے لاپتہ ہے، موجودہ عمر 78 سال ہے اور اس نے کبھی شادی نہیں کی تھی۔
بیٹی: بحمد اللہ زندہ ہے۔
دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ: باپ کی وراثت کی تقسیم میں اس لاپتہ بیٹے (مفقود الخبر) کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس کا حصہ نکال کر محفوظ رکھنا ضروری ہے؟ اگر یہ لاپتہ بیٹا نہ ملے تو اس کا وہ محفوظ شدہ حصہ (جو اسے اپنے باپ سے ملنا تھا) کن ورثاء میں تقسیم ہوگا؟ کیا وہ صرف اس کے زندہ بھائی اور زندہ بہن کو ملے گا یا فوت شدہ بھائیوں (بیٹا 1 اور 2) کے وارثین (بیواؤں اور بچوں) کو بھی اس میں سے حصہ ملے گا؟ مجموعی طور پر اس ترکے کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

A: Jab woh zinda aur moujood tha baap ke intiqaal ke waqt to uska hissa thaabit ho chuka. Uska hissa nikaal kar mahfooz rakhna chaahiye.
Agar 90 saal ke umar tak waapis na aaye to us waqt uska mar jaane ka hukm diya jaayega. Uske bad uske baaqi maal aur meeraath ka hissa ki taqseem hogi uske un wurasaa ke darmiyaan jo us waqt zinda honge.
Tarikah ko 196 hisse me taqseem hogi aur hisse is tarah baant di jayegi:
Zinda betha 48 hisse milega
Laa pata betha 48 hisse milega
Zinda bethi 24 hisse milegi
Pehla fout shuda betha ki biwi 6 hisse milegi
Har larka 14 hisse milega
Doosra fout shuda betha ki biwi 6 hisse milegi
Uska larka 14 hisse milega
Uski har larki 7 hisse milegi
And Allah Ta'ala (الله تعالى) knows best.
Answered by: